30 ستمبر 2026 - 16:34
عراق سے امریکی فوج کا انخلا؛ مغربی ایشیا کے سکیورٹی ماحول میں بڑی تبدیلی کا حصہ

عراق سے آخری امریکی فوجیوں اور امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے ساتھ اس ملک میں واشنگٹن کی دو دہائیوں سے زائد عسکری موجودگی ختم ہوگئی ہے؛ ایک ایسی تبدیلی جو خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ کمی کی بحث کے ساتھ مغربی ایشیا میں واشنگٹن کی موجودگی کے انداز میں تبدیلی کی علامت ہوسکتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 23 سالہ عسکری موجودگی کے بعد آخری امریکی فوجی عراق سے انخلا کر رہے ہیں اور اس ملک میں امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کا مشن بھی ختم ہوگیا ہے۔

یہ انخلا 2024 میں بغداد اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق بین الاقوامی اتحاد کا فوجی مشن 30 ستمبر 2026 تک ختم ہونا تھا، جس کے بعد بغداد اور اتحاد میں شامل ممالک کے درمیان تعلقات دیگر صورتوں میں جاری رہیں گے۔

2003 کے حملے سے 2026 کے انخلا تک

عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا آغاز 2003 کے حملے سے ہوا۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی فوجی کئی سال تک عراق میں موجود رہے اور ایک مرحلے پر ان کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بھی تجاوز کرگئی۔

امریکا نے 2011 میں اپنی فوج عراق سے نکال لی، تاہم 2014 میں داعش کے وجود میں آنے اور اس کے پھیلاؤ کے بعد امریکی فوج کی واپسی کی راہ دوبارہ ہموار ہوئی اور اس بار اسے بین الاقوامی داعش مخالف اتحاد کے تحت پیش کیا گیا۔

داعش کی حکومت کے خاتمے اور اس دہشت گرد گروہ کے ڈھانچے کے بکھرنے کے بعد اتحادی افواج کا مشن جنگی کارروائیوں سے تبدیل ہو کر تربیت، مشاورت اور معاونت تک محدود ہوگیا۔ آخرکار بغداد اور واشنگٹن نے 2024 میں اتحادی افواج کی فوجی موجودگی ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

اب دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد امریکی فوجی عراق میں موجود نہیں ہوں گے۔

ایک فوجی موجودگی کا خاتمہ اور ایسا ریکارڈ جس نے خطے کے لیے بدامنی چھوڑی

عراق سے آخری امریکی فوجیوں کا انخلا ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس ملک میں امریکی فوجی مداخلت کو شروع ہوئے دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ دور 2003 میں عراق پر حملے سے شروع ہوا، جس میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی جانیں گئیں اور عراق کئی سال تک جنگ، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا شکار رہا۔ اب وہی فوج، جو عراق میں سکیورٹی اور استحکام کے قیام کے نعرے کے ساتھ داخل ہوئی تھی، اپنی آخری فوجی تنصیبات بھی چھوڑ رہی ہے۔

عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی اہمیت صرف چند ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ 2003 کے حملے نے عراق کے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے کو تباہ کردیا اور اس کے بعد کئی سال تک فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی جاری رہی۔ مختلف ادوار میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں عراق پر حملے کے بعد اموات میں شدید اضافے اور لاکھوں اضافی اموات کی نشاندہی کی گئی ہے؛ بعد کی تحقیقات میں بھی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر ہلاکتوں پر زور دیا گیا ہے۔

داعش کے ظہور کو بھی عراق پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے حالات میں امریکا پہلے جنگ کے ذریعے عراق میں داخل ہوا، پھر اسی عدم استحکام کے نتائج سے نمٹنے کے لیے دوبارہ خطے میں واپس آیا اور کئی سال تک اپنی فوجی موجودگی جاری رکھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha